ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / سپریم کورٹ میں ہریانہ حکومت کی بڑی جیت نجی شعبہ میں مقامی باشندوں کا 75فیصد کوٹہ بحال

سپریم کورٹ میں ہریانہ حکومت کی بڑی جیت نجی شعبہ میں مقامی باشندوں کا 75فیصد کوٹہ بحال

Fri, 18 Feb 2022 11:29:27    S.O. News Service

نئی دہلی،18؍فروری(ایس او نیوز؍ایجنسی)ہریانہ کے باشندوں کو نجی شعبہ کی نوکریوں میں 75فیصد کوٹہ دینے کے معاملے میں سپریم کورٹ نے قانون پر روک لگانے کے عبوری فیصلہ کو مسترد کر دیا ہے۔ پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کو 4ہفتوں میں اس معاملے کا فیصلہ کرنے کو کہا گیا ہے۔ عدالت نے قانون کے تحت کوٹہ نہ دینے پر کمپنیوں کے خلاف سخت کارروائی پر بھی روک لگا دی ہے۔ عدالت عظمیٰ نے کہا کہ ہائی کورٹ نے عبوری حکم کے فیصلے میں وجوہات بیان نہیں کیں۔سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت کو بتایا کہ چار ریاستوں آندھرا پردیش، جھارکھنڈ، مہاراشٹر اور ہریانہ میں یہ معاملے ہیں۔ آندھرا میں روک نہیں لگائی گئی ہے۔ جھارکھنڈ اور مہاراشٹر میں چیلنج نہیں کیا گیا۔ یہ ریزرویشن تھرڈ اور فورتھ کلاس کے عہدوں کیلئے ہے۔ عدالت پہلے ہی داخلوں وغیرہ میں ڈومیسائل کی اجازت دے چکی ہے۔ ان ریاستوں کے مقدمات کو بھی سپریم کورٹ میں منتقل کیا جا سکتا ہے یا ہائی کورٹ کے اسٹے کے عبوری حکم پر روک لگا کر معاملے کو دوبارہ سماعت کیلئے ہائی کورٹ بھیجا جا سکتا ہے۔سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے ہریانہ کی جانب سے کہا تھا کہ ہم دوسری ریاستوں کے معاملات کا پتہ لگائیں گے۔ اس کے بعد تفصیلات سپریم کورٹ کو دی جائیں گی۔ ریاست کی کھٹر حکومت نے ہریانہ کے باشندوں کیلئے پرائیویٹ سیکٹر کی ملازمتوں میں 75فیصد کوٹے کے معاملے میں سپریم کورٹ میں پناہ لی ہے۔ ہریانہ حکومت نے پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ ہائی کورٹ نے ریزرویشن پر روک لگا دی ہے۔ ہریانہ حکومت نے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا ہے کہ ہائی کورٹ نے یہ فیصلہ صرف ایک منٹ 30سیکنڈ کی سماعت میں جاری کیا۔ اس دوران ریاستی وکیل کا موقف نہیں سنا گیا۔ یہ فیصلہ قدرتی انصاف کے بھی خلاف ہے۔ ہائی کورٹ کا فیصلہ پائیدار نہیں ہے اسے منسوخ کیا جانا چاہیے۔


Share: